گھٹنوں اور جوڑوں کا درد — سردیوں میں احتیاط

جوڑوں کا درد صرف عمر کا مسئلہ نہیں۔ وزن، حرکت کی کمی اور بیٹھنے کا انداز بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔

سردیوں میں جوڑوں کے درد کی شکایت بڑھ جاتی ہے۔ اکثر لوگ اسے صرف موسم کا اثر سمجھ کر برداشت کرتے رہتے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے کئی ایسی وجوہات ہوتی ہیں جن پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

درد کیوں بڑھتا ہے

سرد موسم میں جسم کی حرکت کم ہو جاتی ہے، پٹھے سخت رہتے ہیں اور جوڑوں کی لچک متاثر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی سردی میں پانی کم پیا جاتا ہے اور دھوپ کم ملتی ہے۔ یہ سب مل کر پہلے سے موجود تکلیف کو نمایاں کر دیتے ہیں۔

سب سے اہم بات: وزن

گھٹنوں پر جسم کا پورا بوجھ آتا ہے۔ وزن میں معمولی کمی بھی گھٹنوں پر پڑنے والے دباؤ میں نمایاں فرق ڈالتی ہے۔ یہ سب سے مؤثر تدبیر ہے اور اکثر سب سے زیادہ نظر انداز کی جاتی ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے سخت فاقہ نہیں بلکہ متوازن خوراک اور باقاعدہ حرکت درکار ہوتی ہے۔

حرکت بند نہ کریں

درد کے خوف سے مکمل آرام کرنا فائدہ نہیں دیتا۔ جوڑ جتنا بے حرکت رہے گا، اتنا سخت ہوتا جائے گا۔ ہلکی چہل قدمی، جوڑوں کی نرم ورزش اور روزمرہ کی معمولی مصروفیت جاری رکھیں۔ البتہ درد کے دوران زیادہ بوجھ اٹھانا، سیڑھیاں بار بار چڑھنا اور اکڑوں بیٹھنا کم کریں۔

بیٹھنے اور اٹھنے کا انداز

  1. زمین پر اکڑوں بیٹھنے کے بجائے کرسی استعمال کریں، خاص طور پر عمر رسیدہ افراد۔
  2. ایک ہی حالت میں دیر تک نہ بیٹھیں۔ ہر تھوڑی دیر بعد پوزیشن بدلیں۔
  3. وزن اٹھاتے وقت کمر جھکانے کے بجائے گھٹنے موڑ کر اٹھائیں۔
  4. سیڑھیاں چڑھتے وقت سہارے کا استعمال کریں۔

سردی سے حفاظت

جوڑوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔ گھٹنوں اور کمر پر گرم کپڑا رکھنا سختی کم کرتا ہے۔ نیم گرم پانی سے سکائی بھی آرام دیتی ہے، مگر بہت زیادہ گرم پانی سے گریز کریں۔ دھوپ میں کچھ وقت بیٹھنا سردیوں میں خاص طور پر مفید ہے۔

کب دیر نہ کریں

اگر جوڑ میں واضح سوجن ہو، جلد سرخ اور گرم محسوس ہو، بخار ساتھ ہو، جوڑ اچانک بالکل ہی جواب دے جائے یا کسی چوٹ کے بعد شدید درد ہو — تو یہ عام موسمی درد نہیں۔ ایسی صورت میں فوراً معالج سے رجوع کریں۔

مطب احمد میں

گھٹنوں اور جوڑوں کے درد کے لیے مطب احمد و احمد دواخانہ میں اندرونی کورس کے ساتھ بیرونی استعمال کے مجربات بھی دستیاب ہیں۔ مریض کی عمر، وزن اور کیفیت دیکھ کر تجویز دی جاتی ہے۔

ضروری وضاحت: یہ مضمون عمومی طبی رہنمائی کے لیے ہے، کسی مریض کے ذاتی نسخے کا متبادل نہیں۔ ہر شخص کا مزاج، عمر اور کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ کوئی بھی دوا یا کورس شروع کرنے سے پہلے حکیم صاحب یا اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں، اور پہلے سے جاری کوئی علاج اپنی مرضی سے بند نہ کریں۔

واٹس ایپ