معدہ، قبض اور گیس — وجوہات اور روزمرہ احتیاط

بدہضمی، گیس اور قبض کی شکایت اکثر کھانے کے اوقات، پانی کی کمی اور بے وقت نیند سے جڑی ہوتی ہے۔ کچھ آسان تبدیلیاں بڑا فرق ڈالتی ہیں۔

مطب میں آنے والے مریضوں میں سب سے عام شکایت معدے کی ہوتی ہے — کھانے کے بعد بھاری پن، گیس، سینے کی جلن یا قبض۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر صورتوں میں مرض کی جڑ کسی بڑی خرابی میں نہیں بلکہ روزمرہ کے معمولات میں ہوتی ہے۔

عام وجوہات

  1. کھانے کے اوقات بے ترتیب ہونا — کبھی ناشتہ چھوڑ دینا، کبھی رات دیر سے بھاری کھانا۔
  2. کھانا جلدی جلدی نگلنا اور اچھی طرح نہ چبانا۔
  3. پانی کی کمی، خاص طور پر گرمیوں میں۔
  4. خوراک میں ریشے (فائبر) کی کمی — سبزی، دال اور سالم اناج کا کم استعمال۔
  5. حرکت کی کمی — سارا دن بیٹھے رہنا۔
  6. مسلسل ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی۔
  7. بار بار درد کش یا بازاری ہاضمے کی دوائیں خود سے استعمال کرنا۔

روزمرہ کی احتیاط

سب سے پہلے کھانے کا وقت مقرر کریں۔ دن میں تین متوازن کھانے، اور رات کا کھانا سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے۔ رات کو بھاری، تلی ہوئی اور زیادہ مرچ مصالحے والی غذا سے پرہیز کریں — یہ سینے کی جلن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

پانی دن بھر تھوڑا تھوڑا کر کے پئیں۔ کھانے کے فوراً بعد زیادہ پانی پینے کے بجائے کچھ دیر بعد پئیں۔ چائے اور کافی کی مقدار محدود رکھیں، خاص طور پر خالی پیٹ۔

قبض کی شکایت ہو تو خوراک میں سبزیاں، دالیں اور سالم اناج بڑھائیں اور روزانہ چہل قدمی کو معمول بنائیں۔ صرف دوا پر انحصار کرنے سے مسئلہ وقتی طور پر دبتا ہے، ختم نہیں ہوتا۔

کھانے کے بعد کیا کریں

کھانے کے فوراً بعد لیٹ جانا گیس اور جلن دونوں بڑھاتا ہے۔ دس پندرہ منٹ کی آہستہ واک بہتر ہے۔ رات کے کھانے کے بعد یہ عادت خاص طور پر مفید ہے۔

کن علامات کو سنجیدہ لینا چاہیے

عام بدہضمی اور سنگین مسئلے میں فرق ہے۔ اگر آپ کو مسلسل شدید درد، بغیر کوشش کے وزن کم ہونا، کھانا نگلنے میں دشواری، بار بار قے، پاخانے میں خون یا کالا پن، یا مسلسل کمزوری محسوس ہو تو اسے معمولی نہ سمجھیں۔ ایسی صورت میں فوراً معالج کو دکھائیں اور ضروری ٹیسٹ کروائیں۔

مطب احمد میں

معدہ و امعاء کی بیماریوں اور قبض و گیس کے لیے مطب احمد و احمد دواخانہ میں مجرب کورس دستیاب ہیں۔ مریض کی کیفیت، مزاج اور علامات دیکھ کر مناسب تجویز دی جاتی ہے۔

ضروری وضاحت: یہ مضمون عمومی طبی رہنمائی کے لیے ہے، کسی مریض کے ذاتی نسخے کا متبادل نہیں۔ ہر شخص کا مزاج، عمر اور کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ کوئی بھی دوا یا کورس شروع کرنے سے پہلے حکیم صاحب یا اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں، اور پہلے سے جاری کوئی علاج اپنی مرضی سے بند نہ کریں۔

واٹس ایپ